انسان کی تخلیق
ایک حدیث ہے کہ جسے شیعہ سنی دونوں نے ذکر کیا ہے اور شیعوں کی کتاب علل الشرائع اور الکافی میں ہے کہ
أبى رحمه الله قال: حدثنا سعد بن عبد الله عن أحمد بن محمد بن عيسى عن علي ابن الحكم عن عبد الله بن سنان قال: سألت أبا عبد الله جعفر بن محمد الصادق عليهما السلام فقلت الملائكة أفضل أم بنو آدم؟ فقال: قال أمير المؤمنين علي ابن أبي طالب " ع ": ان الله عز وجل ركب في الملائكة عقلا بلا شهوة، وركب في البهائم شهوة بلا عقل. وركب في بني آدم كليهما، فمن غلب عقله شهوته
خدا نے ایک فرشتے کو خلق فرمایا اور اسے خالص عقل سے بنایا،پھر حیوان خلق فرمایا اور اسے خالص شہوت سے تیار کیا اور بعد میں ان دونوں فرشتے اور حیوانوں کی سرشتوں کو مخلوط کر کے اس سے انسان کو خلق فرمایا۔"
علل الشرائع جلد 1 باب نمبر 6 ص 4
اس حدیث کی سند صیح اور تمام روای ثقہ ہیں
اسطرح مولانا روم لکھتے ہیں
در حديث آمد كه خلاق مجيد
خلق عالم را سه گونه آفريد
ترجمہ : حدیث میں آیا ہے کہ خداوند تعالی نے مخلوق کع تین طرح سے خلق فرمایا ہے
حدیث کی تعبیر کے مطابق انسان کے اسطرح مرکب ہونے(فرشتے کی صفات کے لحاظ سے او ر حیوانی پہلو کے اعتبار سے) کی وجہ سے انسان میں دو متقابل اور متضاد رجحان وجودمیں آتے ہیں، ایک اوپر کی طرف رجحان اور دوسرا نیچے کی طرف رجحان،ایک آسمان اور دوسرا زمینی۔پھر خداوند عالم نے انسان کو عقل کا ارادہ فرمایا اور اسکو دوراہوں کے درمیان انتخاب میں اختیار عطا فرمایا ہے:
انا هديناه السبيل اما شاكرا و اما كفورا
"ہم نے تو اسے راستے کی رہنمائی کردی ہے، اب چاہے شکر گزار ہو یا ناشکر گزار۔"
اسکے علاوہ یہ حدیث اہسنت کے ہاں بھی موجود ہے شیخ ابن تیمیہ منہاج السنہ میں نقل کرتے ہیں













